نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ کا ایران کے خلاف ایٹمی حملے کا امکان
شائع شدہ تاریخ 02 نومبر, 2026
9 نیوز ایچ ڈی: امریکی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایٹمی حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
کارلسن کے مطابق اس ممکنہ کارروائی کا ہدف ایران میں واقع پِک ایکس ماؤنٹین ہو سکتا ہے، جہاں ان کے دعوے کے مطابق جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کا شبہ ہے۔
ٹکر کارلسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ نیتن یاہو امریکی صدر پر ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کے زیرِ زمین جوہری مرکز کو مضبوط چٹانوں کے نیچے بنایا گیا ہے، جس تک روایتی امریکی ہتھیاروں کی رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے ایٹمی حملے کے امکان کا ذکر کیا۔
کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت پیش نہیں کیا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے اشارے دیے ہیں، جبکہ قطر بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ابھی تک امریکی حکومت کی جانب سے ایران پر ایٹمی حملے کے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے ٹکر کارلسن کے بیان کو ایک دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔