صرف 25 منٹ بیٹھنا دل کے لیے خطرناک؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
شائع شدہ تاریخ 14 اکتوبر, 2026
9 نیوز ایچ ڈی: زیادہ دیر تک مسلسل بیٹھنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیا کی سوئن برن یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 25 منٹ سے زیادہ مسلسل بیٹھنے کے بعد جسم کے پٹھوں کی سرگرمی کم ہونے لگتی ہے۔ طویل عرصے تک ایسا معمول برقرار رہنے سے دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے خاص سینسرز کی مدد سے لوگوں کے بیٹھنے اور پٹھوں کی حرکت کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے بیٹھنے کے 7 ہزار سے زیادہ دورانیوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مسلسل بیٹھے رہنے کے دوران پٹھے کم فعال ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پٹھوں کی سرگرمی کم ہونے سے خون کی روانی اور جسم میں شکر کو استعمال کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف 25 منٹ بیٹھنے سے دل کی بیماری شروع ہو جاتی ہے، بلکہ یہ تحقیق مسلسل بیٹھنے کی عادت کے ممکنہ اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بیٹھنے کے دوران جسم کی معمولی حرکت بھی اہم ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹانگیں ہلانا، پوزیشن بدلنا یا کچھ دیر کھڑے ہونا جسم کو متحرک رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس کئی گھنٹے ایک ہی جگہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے سے جسمانی سرگرمی بہت کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دفتر یا گھر میں کام کرتے ہوئے ہر کچھ دیر بعد اٹھ کر چند قدم چلیں۔ اگر روزانہ کئی گھنٹے بیٹھنا ضروری ہو تو مختصر وقفے لینا اور باقاعدگی سے چہل قدمی کرنا اچھی عادت ہے۔ اس طرح روزمرہ زندگی میں حرکت بڑھائی جا سکتی ہے اور صحت کا بہتر خیال رکھا جا سکتا ہے۔
دل کی صحت کے لیے صرف بیٹھنے کے وقت پر نہیں بلکہ روزانہ کی ورزش، متوازن غذا اور مجموعی طرز زندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔