فیٹی لیور کے پھیلاؤ کی بڑی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

شائع شدہ تاریخ 12 اکتوبر, 2026
فیٹی-لیور-کے-پھیلاؤ-کی-بڑی-ممکنہ-وجہ-سامنے-آگئی

9 نیوز ایچ ڈی: جگر پر چربی چڑھنے کا مرض، جسے فیٹی لیور کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں صحت کے اہم مسائل میں شامل ہے۔ نئی تحقیق میں پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات اور اس بیماری کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ ذرات جگر کی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں، تاہم انسانوں میں اس تعلق کو مکمل طور پر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحقیق میں خاص طور پر پولی ایتھیلین نامی پلاسٹک کے ذرات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پلاسٹک شاپنگ بیگز، پیکنگ اور روزمرہ استعمال کی کئی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ پلاسٹک ٹوٹ کر بہت چھوٹے ذرات میں بدل سکتا ہے، جو ماحول، پانی اور خوراک میں شامل ہوسکتے ہیں۔

پلاسٹک کے ذرات جگر کو کیسے متاثر کرسکتے ہیں؟

سائنس دانوں کے مطابق جانوروں پر کی گئی تحقیق میں پلاسٹک کے ذرات اور جگر میں چربی جمع ہونے کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔ غیر صحت بخش غذا کے ساتھ ان ذرات کی موجودگی نے جگر کو ہونے والے نقصان کو مزید بڑھایا۔ اس سے یہ امکان سامنے آیا ہے کہ پلاسٹک کے چھوٹے ذرات جگر کی سوزش اور چربی جمع ہونے کے عمل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم جانوروں پر ہونے والے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

فیٹی لیور سے بچاؤ کے لیے کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق فیٹی لیور کے خطرے کو کم کرنے کے لیے صحت مند غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور وزن کو مناسب حد میں رکھنا اہم ہے۔ میٹھے مشروبات، زیادہ چکنائی والی غذا اور ضرورت سے زیادہ کیلوریز کے استعمال کو کم کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

پلاسٹک کے ذرات سے متعلق تحقیق ابھی جاری ہے، اس لیے انہیں فیٹی لیور کی واحد یا حتمی وجہ قرار دینا درست نہیں۔ اگر آپ کو پہلے سے جگر کا مسئلہ ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ کروائیں۔ نئی تحقیق اس بات کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ جگر کی صحت پر غذا اور ماحول کے ممکنہ اثرات کو مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔