قرنیہ کی بیماری کا نیا علاج، اثرات 3 سال تک برقرار
شائع شدہ تاریخ 10 اکتوبر, 2026
9 نیوز ایچ ڈی: قرنیہ کی بیماری کے علاج میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، کیراٹوکونس (Keratoconus) کے مریضوں میں ایک بار علاج کے تین سال بعد بھی آنکھ کی ساخت اور نظر میں بہتری کے اثرات برقرار رہے۔ یہ نتائج آنکھوں کی اس بیماری کے علاج کے لیے امید افزا سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ علاج امریکی کمپنی گلوکوس (Glaukos) کی تیار کردہ دوا اور طریقہ علاج ایپیوکسا (Epioxa) سے متعلق ہے۔ کیراٹوکونس ایسی بیماری ہے جس میں آنکھ کے سامنے موجود شفاف حصے، یعنی قرنیہ، کی شکل بدلنے لگتی ہے۔ اس وجہ سے نظر دھندلی ہو سکتی ہے اور چیزیں واضح دکھائی دینے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق، تین سالہ تحقیق میں 35 مریضوں کی 38 آنکھوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایک بار علاج کروانے کے بعد بھی قرنیہ کی حالت میں بہتری برقرار رہی۔ تقریباً 29 فیصد آنکھوں میں نظر کے چارٹ پر دو یا اس سے زیادہ لائنوں کی بہتری دیکھی گئی، جبکہ 20 فیصد میں تین یا اس سے زیادہ لائنوں کی بہتری سامنے آئی۔ اس عرصے میں مریضوں کو دوبارہ علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔
اس طریقہ علاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرنیہ کی بیرونی تہہ ہٹانے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے روایتی طریقے کے مقابلے میں تکلیف کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، یہ نتائج ابتدائی طور پر کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تحقیق پر مبنی ہیں۔ ہر مریض کے لیے علاج کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔